پاکستان میں تعلیم کی اہمیت کو ہر والدین سمجھتے ہیں۔ ہر ماں باپ چاہتا ہے کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں اور زندگی میں کامیاب ہوں۔ لیکن پاکستان میں تعلیمی اخراجات ہر سال تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اسکول کی فیسیں، کتابیں، یونیفارم، ٹیوشن اور یونیورسٹی کی فیسیں مل کر ایک بہت بڑی رقم بن جاتی ہیں جو ایک عام پاکستانی خاندان کے لیے اکٹھا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بہت سے والدین اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے قرض لیتے ہیں یا اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر شروع سے ہی منصوبہ بندی کی جائے اور باقاعدگی سے تھوڑا تھوڑا پیسہ بچایا جائے تو بچوں کی تعلیم کے اخراجات بغیر کسی مالی مشکل کے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے وقت سے ہی بچت شروع کی جائے تو اٹھارہ سال بعد ایک بڑی رقم جمع ہو جاتی ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے لیے پیسے کیسے بچائے جائیں، کون سے طریقے سب سے مؤثر ہیں اور کیسے آپ اپنے بچے کے تعلیمی مستقبل کو مالی طور پر محفوظ بنا سکتے ہیں۔
|
| تعلیمی اخراجات کا اندازہ لگائیں |
بچوں کی تعلیم کے لیے بچت شروع کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو کتنے پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان میں تعلیم کے اخراجات اسکول کے معیار اور شہر کے مطابق بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ایک سرکاری اسکول میں پڑھانا بہت سستا ہے لیکن نجی اسکول اور یونیورسٹی بہت مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اپنے بچے کے لیے جو تعلیم چاہتے ہیں اس کا تخمینہ لگائیں۔
پاکستان میں ایک بچے کی ابتدائی سے میٹرک تک تعلیم پر نجی اسکول میں اوسطاً پندرہ سے پچیس لاکھ روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ پر تین سے پانچ لاکھ روپے اور چار سالہ یونیورسٹی پروگرام پر دس سے تیس لاکھ روپے درکار ہو سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار مہنگائی کے ساتھ مزید بڑھتے جاتے ہیں اس لیے اگر آپ کا بچہ ابھی چھوٹا ہے تو ان اخراجات میں مزید اضافے کا حساب لگائیں۔
| تعلیمی مرحلہ | سرکاری اخراجات | نجی اخراجات |
|---|---|---|
| پرائمری 1 سے 5 | 50,000 - 1,00,000 | 3,00,000 - 8,00,000 |
| مڈل 6 سے 8 | 30,000 - 60,000 | 2,00,000 - 5,00,000 |
| میٹرک 9 سے 10 | 20,000 - 40,000 | 1,50,000 - 4,00,000 |
| انٹرمیڈیٹ | 30,000 - 60,000 | 2,00,000 - 5,00,000 |
| یونیورسٹی | 2,00,000 - 5,00,000 | 10,00,000 - 30,00,000 |
|
| جتنی جلدی شروع کریں اتنا بہتر |
بچوں کی تعلیم کے لیے بچت کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو شروع کریں۔ بچے کی پیدائش کے وقت سے بچت شروع کریں تو آپ کے پاس اٹھارہ سال ہیں۔ اگر آپ ہر مہینے صرف دو ہزار روپے بھی بچائیں تو اٹھارہ سالوں میں چار لاکھ بتیس ہزار روپے بنتے ہیں اور اگر منافع کے ساتھ کسی اسکیم میں لگائیں تو یہ رقم چھ سے آٹھ لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
وقت کا جادو یہ ہے کہ جتنا زیادہ وقت ملتا ہے اتنا کم ماہانہ بچانا پڑتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ ابھی پانچ سال کا ہے تو آپ کے پاس تیرہ سال ہیں۔ اگر دس سال کا ہے تو آٹھ سال ہیں۔ جتنا دیر سے شروع کریں گے اتنا زیادہ ماہانہ بچانا پڑے گا۔ اس لیے آج ہی شروع کریں چاہے رقم کتنی ہی چھوٹی ہو۔
| بچے کی عمر | باقی سال | ماہانہ بچت ہدف |
|---|---|---|
| پیدائش | 18 سال | 2,000 سے 3,000 روپے |
| 3 سال | 15 سال | 3,000 سے 5,000 روپے |
| 5 سال | 13 سال | 4,000 سے 7,000 روپے |
| 8 سال | 10 سال | 6,000 سے 10,000 روپے |
| 10 سال | 8 سال | 8,000 سے 15,000 روپے |
|
| الگ تعلیمی بچت اکاؤنٹ کھولیں |
بچوں کی تعلیم کے لیے بچت کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ایک الگ اکاؤنٹ کھولیں جو صرف تعلیمی اخراجات کے لیے ہو۔ اس اکاؤنٹ کو روزمرہ کے اخراجات کے لیے استعمال نہ کریں۔ پاکستان کے بہت سے بینک بچوں کے نام پر خصوصی بچت اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت دیتے ہیں۔ میزان بینک، حبیب بینک، یو بی ایل اور دیگر بینکوں میں بچوں کے اکاؤنٹ پر اچھا منافع بھی ملتا ہے۔
ہر مہینے تنخواہ ملتے ہی طے شدہ رقم اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں۔ اگر ممکن ہو تو یہ ٹرانسفر خودکار بنائیں تاکہ بھولنے کا خطرہ نہ رہے۔ اس اکاؤنٹ کو چھونے کی عادت نہ ڈالیں چاہے کوئی بھی ضرورت آئے۔ یہ پیسے صرف بچے کی تعلیم کے لیے ہیں اور اسی مقصد پر خرچ ہونے چاہییں۔ جب رقم جمع ہوتی رہے تو ایک مختلف احساس اور حوصلہ ملتا ہے جو آپ کو مزید بچانے کی ترغیب دیتا ہے۔
|
| قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ لگائیں |
پاکستان میں قومی بچت اسکیمیں تعلیمی بچت کے لیے بہترین اختیار ہیں کیونکہ یہ مکمل محفوظ ہیں اور منافع بھی اچھا ملتا ہے۔ ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ دس سالہ مدت کے لیے ہے اور اس میں منافع کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ کا بچہ ابھی چھوٹا ہے تو ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ میں پیسے لگائیں جو میچور ہونے پر کئی گنا ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں نیشنل سیونگز کی ایک خاص اسکیم بھی ہے جسے بچت سرٹیفکیٹ کہتے ہیں جو تین سال کے لیے ہے۔ ہر تین سال بعد یہ سرٹیفکیٹ دوبارہ خریدیں اور اس طرح پندرہ سے اٹھارہ سالوں میں ایک بڑی رقم جمع کریں۔ قومی بچت اسکیموں پر حکومت کی ضمانت ہے اس لیے آپ کا پیسہ مکمل محفوظ ہے۔ ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کے لیے کسی بھی نیشنل سیونگز سنٹر یا پوسٹ آفس سے رجوع کریں۔
|
| موجودہ تعلیمی اخراجات کم کریں |
بچت بڑھانے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ موجودہ تعلیمی اخراجات کو کم کیا جائے تاکہ بچی ہوئی رقم مستقبل کے لیے جمع کی جا سکے۔ سب سے پہلے پرانی کتابیں خریدیں کیونکہ ہر سال نئی کتابوں پر ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ سینئر طلباء یا رشتہ داروں سے پچھلے سال کی کتابیں مانگیں یا کم قیمت میں خریدیں۔ مواد بالکل ایک جیسا ہوتا ہے اور پیسوں کی بڑی بچت ہوتی ہے۔
اسٹیشنری اور اسکول کا سامان سیزن کے شروع میں خریدیں جب قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ یونیفارم بھی پہلے سے خریدیں اور بچے کی بڑھوتری کو مدنظر رکھ کر تھوڑا بڑا خریدیں تاکہ زیادہ عرصے تک چل سکے۔ ٹیوشن فیس کو کم کرنے کے لیے گروپ ٹیوشن جوائن کریں جو انفرادی ٹیوشن سے بہت سستی ہوتی ہے۔ آن لائن یوٹیوب ٹیوٹوریلز سے بھی بچوں کو مدد ملتی ہے جو بالکل مفت ہیں۔
|
| وظائف اور اسکالرشپ |
پاکستان میں بہت سے سرکاری اور نجی وظائف دستیاب ہیں جن سے بچوں کی تعلیمی اخراجات میں بہت کمی آ سکتی ہے۔ احساس اسکالرشپ پروگرام، وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وظائف اور صوبائی حکومتوں کے تعلیمی وظائف ان میں شامل ہیں۔ اگر آپ کا بچہ ہونہار ہے تو ان وظائف کے لیے درخواست دیں اور تعلیمی اخراجات بہت کم ہو سکتے ہیں۔
نجی یونیورسٹیاں بھی ذہین طلباء کو وظائف دیتی ہیں۔ بچے کو ابتدا سے ہی پڑھائی میں محنت کرنے کی ترغیب دیں تاکہ اچھے نمبر آئیں اور وظیفہ ملنے کے امکانات بڑھیں۔ پاکستان میں بیرون ملک وظائف بھی دستیاب ہیں جیسے ترکیہ، چین اور دیگر ملکوں کے وظائف جن پر پوری تعلیم مفت ہوتی ہے۔ وظیفے کی تیاری ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے جو بچے کی محنت اور والدین کی رہنمائی سے حاصل ہوتی ہے۔
|
| میوچل فنڈ میں تعلیمی بچت |
پاکستان میں میوچل فنڈ تعلیمی بچت کا ایک بہترین جدید طریقہ ہے۔ میوچل فنڈ میں سرمایہ پیشہ ور مینیجرز کے ذریعے مختلف جگہوں پر لگایا جاتا ہے جس سے قومی بچت اسکیموں سے بھی زیادہ منافع ملنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سی کمپنیاں تعلیمی سرمایہ کاری کے لیے خاص میوچل فنڈ پلان پیش کرتی ہیں جن میں ماہانہ چھوٹی سی رقم جمع کرائی جا سکتی ہے۔
میوچل فنڈ میں صرف پانچ سو روپے ماہانہ سے شروعات کی جا سکتی ہے۔ آج کل موبائل ایپس کے ذریعے بھی میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری بہت آسان ہو گئی ہے۔ اسلامی میوچل فنڈ کا اختیار بھی دستیاب ہے جو سود سے پاک ہے۔ میوچل فنڈ میں خطرہ قومی بچت اسکیموں سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے لیکن طویل مدت میں منافع بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تعلیمی بچت کے لیے کم از کم دس سے پندرہ سالہ مدت کا میوچل فنڈ پلان بہترین ہوتا ہے۔
|
| بچوں کو بچت کی اہمیت سکھائیں |
تعلیمی بچت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بچوں کو خود پیسوں کی قدر اور بچت کی اہمیت سکھائی جائے۔ جب بچہ چھوٹی عمر سے پیسے بچانا سیکھتا ہے تو وہ بڑے ہو کر مالی معاملات میں زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے۔ بچے کو گلک یعنی پیسے جمع کرنے کا ڈبہ دیں اور اسے ترغیب دیں کہ عید کے پیسے اور جیب خرچ کا کچھ حصہ جمع کرے۔
بچے کے ساتھ مل کر اس کی تعلیمی بچت کا حساب دیکھیں اور اسے بتائیں کہ یہ پیسے اس کی اپنی پڑھائی کے لیے ہیں۔ اس سے بچے میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ پڑھائی کو زیادہ سنجیدگی سے لیتا ہے۔ بچوں کو فضول خرچی کی عادت سے بچائیں اور انہیں سکھائیں کہ خریداری سے پہلے سوچنا ضروری ہے۔ مالی تعلیم بچپن میں دی جائے تو زندگی بھر فائدہ دیتی ہے۔
|
| تعلیمی بیمہ پلان |
پاکستان میں بہت سی بیمہ کمپنیاں خاص تعلیمی بیمہ پلان پیش کرتی ہیں۔ ان پلانوں میں آپ ہر مہینے ایک طے شدہ رقم جمع کراتے ہیں اور ایک مقررہ مدت کے بعد بچے کی تعلیم کے لیے یکمشت بڑی رقم مل جاتی ہے۔ ان پلانوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر والدین کی وفات ہو جائے تو باقی قسطیں بیمہ کمپنی خود ادا کرتی ہے اور بچے کو پوری رقم ملتی ہے۔
ریاست لائف انشورنس، جبل پاکستان اور دیگر بیمہ کمپنیاں تعلیمی پلان پیش کرتی ہیں۔ پلان لیتے وقت اس کی تمام شرائط اچھی طرح پڑھیں اور کسی قابل اعتماد ماہر سے مشورہ لیں۔ ماہانہ قسط اپنی آمدنی کے مطابق رکھیں تاکہ ادائیگی مشکل نہ ہو۔ تعلیمی بیمہ پلان کو صرف ایک بچت کے طریقے کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اپنے بچے کے مستقبل کی حفاظت کے طور پر دیکھیں۔
| طریقہ | کم از کم رقم | خطرہ | بہترین مدت |
|---|---|---|---|
| الگ بچت اکاؤنٹ | 500 روپے | صفر | کسی بھی مدت |
| قومی بچت اسکیم | 500 روپے | صفر | 3 سے 10 سال |
| میوچل فنڈ | 500 روپے | متوسط | 10 سے 15 سال |
| تعلیمی بیمہ پلان | 1,000 روپے | کم | 10 سے 18 سال |
| وظیفہ اور اسکالرشپ | صفر | صفر | یونیورسٹی مرحلہ |
بچوں کی تعلیم میں کیا گیا پیسہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ یہ دنیا کی سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے جو نہ صرف بچے کی زندگی بدلتی ہے بلکہ پوری فیملی کی زندگی بہتر بناتی ہے۔ پاکستان میں جن لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دی اور قربانی دی وہ آج اپنے بچوں کو کامیاب دیکھ کر خوش ہیں۔ آج کی تھوڑی سی بچت کل کا بڑا انعام ہے۔
اوپر بیان کیے گئے طریقوں میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ طریقے اپنائیں اور آج سے ہی اپنے بچے کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانا شروع کریں۔ چھوٹی شروعات بھی بڑی منزل تک پہنچاتی ہے۔
نیٹ ایشیا پر ہم پاکستانی والدین کو ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مالی رہنمائی دیتے رہیں گے۔ اگر آپ بچوں کی تعلیمی بچت سے متعلق کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں یا اپنا تجربہ شیئر کرنا چاہتے ہیں تو نیچے کمنٹ میں ضرور لکھیں اور اس آرٹیکل کو ان والدین کے ساتھ شیئر کریں جو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند ہیں۔