پاکستان میں آج کے دور میں مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہر مہینے تنخواہ ملنے کے چند دن بعد ہی جیب خالی ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مہینے کے آخر میں یہ سوچتے ہیں کہ پیسے کہاں گئے لیکن انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ یہ مسئلہ صرف کم تنخواہ والوں کا نہیں بلکہ اچھی تنخواہ لینے والے بھی اسی صورتحال سے گزرتے ہیں۔
اصل مسئلہ تنخواہ کم ہونا نہیں بلکہ پیسوں کا صحیح انتظام نہ ہونا ہے۔ اگر آپ اپنی تنخواہ کو سمجھداری سے استعمال کریں اور پیسے بچانے کی عادت ڈالیں تو آپ ہر مہینے کچھ نہ کچھ بچا سکتے ہیں۔ یہ بچائے ہوئے پیسے وقت کے ساتھ ایک بڑی رقم بن سکتے ہیں جو آپ کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو دس ایسے عملی طریقے بتائیں گے جن پر عمل کر کے آپ اپنی تنخواہ سے باقاعدگی سے پیسے بچا سکتے ہیں۔ یہ طریقے بالکل آسان ہیں اور انہیں آج سے ہی اپنایا جا سکتا ہے۔
|
| پہلے بچائیں پھر خرچ کریں |
پیسے بچانے کا سب سے پہلا اور سب سے اہم اصول یہ ہے کہ تنخواہ ملتے ہی سب سے پہلے بچت کی رقم الگ کریں اور پھر باقی پیسوں سے خرچ کریں۔ زیادہ تر لوگ پہلے خرچ کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جو بچے گا وہ بچا لیں گے لیکن آخر میں کچھ نہیں بچتا۔
تنخواہ ملنے کے پہلے دن ہی دس سے بیس فیصد رقم ایک الگ اکاؤنٹ میں ڈال دیں جسے آپ عام استعمال کے لیے نہ چھوئیں۔ اگر تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے تو پانچ سے دس ہزار روپے پہلے الگ کریں اور باقی چالیس سے پینتالیس ہزار روپے سے مہینہ گزاریں۔ یہ ایک چھوٹی سی عادت بہت بڑا فرق پیدا کرتی ہے۔
| تنخواہ | دس فیصد بچت | سالانہ بچت |
|---|---|---|
| 30,000 روپے | 3,000 روپے | 36,000 روپے |
| 50,000 روپے | 5,000 روپے | 60,000 روپے |
| 80,000 روپے | 8,000 روپے | 96,000 روپے |
| 1,00,000 روپے | 10,000 روپے | 1,20,000 روپے |
|
| ماہانہ بجٹ بنائیں |
بجٹ بنانا پیسے بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ ہر مد میں کتنا خرچ کرنا ہے تو فضول خرچی خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ مہینے کے شروع میں ایک کاغذ پر یا موبائل میں اپنی تمام آمدنی اور تمام اخراجات لکھیں اور ہر چیز کے لیے ایک حد مقرر کریں۔
بجٹ میں کھانے پینے، بجلی گیس، کرایہ، بچوں کی فیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اخراجات شامل کریں۔ اس کے بعد جو رقم بچے اسے تفریح اور دیگر غیر ضروری اخراجات کے لیے مختص کریں۔ بجٹ پر عمل کرنا مشکل لگتا ہے لیکن ایک دو مہینے کی مشق کے بعد یہ عادت بن جاتی ہے اور زندگی بہت آسان ہو جاتی ہے۔
| اخراجات کی مد | تجویز کردہ فیصد |
|---|---|
| کھانا پینا | 25 سے 30 فیصد |
| کرایہ یا قسط | 25 سے 30 فیصد |
| بجلی گیس پانی | 10 فیصد |
| تعلیم و ٹرانسپورٹ | 15 فیصد |
| بچت | 10 سے 20 فیصد |
| تفریح و دیگر | 5 سے 10 فیصد |
|
| فضول خرچی سے بچیں |
ہم میں سے بہت سے لوگ ایسی چیزوں پر پیسے خرچ کرتے ہیں جن کی ہمیں اصل میں ضرورت نہیں ہوتی۔ باہر کھانا کھانا، بے ضرورت شاپنگ، مہنگے موبائل پیکجز اور سبسکرپشنز جو استعمال نہیں ہوتیں یہ سب فضول خرچی کی مثالیں ہیں۔ ایک مہینے کے تمام اخراجات لکھ کر دیکھیں کہ کہاں کہاں غیر ضروری خرچ ہو رہا ہے۔
باہر کھانے کے بجائے گھر میں کھانا بنائیں۔ مہنگے کیفے میں جانے کے بجائے گھر میں چائے پئیں۔ ہر چھوٹی خریداری سے پہلے خود سے پوچھیں کہ کیا یہ واقعی ضروری ہے۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی بچتیں مل کر مہینے کے آخر میں ہزاروں روپے بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں صرف باہر کھانا بند کر کے ایک شخص ہر مہینے پانچ سے دس ہزار روپے بچا سکتا ہے۔
|
| بجلی اور گیس کا بل کم کریں |
پاکستان میں بجلی اور گیس کے بلوں نے گھریلو بجٹ کو بہت متاثر کیا ہے۔ لیکن کچھ آسان عادتیں اپنا کر ان بلوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ بلاضرورت بجلی کے آلات بند رکھیں، ایل ای ڈی بلب استعمال کریں اور واشنگ مشین کو ہفتے میں ایک یا دو بار ہی چلائیں۔
گیس کے استعمال میں بھی احتیاط کریں۔ پریشر ککر میں کھانا پکانے سے گیس کی بچت ہوتی ہے۔ سولر پینل لگانا ابتدا میں مہنگا لگتا ہے لیکن طویل مدت میں یہ بجلی کے بل سے بہت زیادہ بچت کرواتا ہے۔ صرف بجلی اور گیس کے بل میں بیس فیصد کمی کر کے آپ ہر مہینے ایک سے تین ہزار روپے بچا سکتے ہیں۔
|
| قرض اور ادھار سے بچیں |
پاکستان میں ادھار لینے کی عادت بہت عام ہے۔ لوگ دوستوں، رشتہ داروں اور دکانداروں سے ادھار لیتے ہیں اور پھر تنخواہ ملنے پر پہلے ادھار چکاتے ہیں جس سے ہاتھ مزید تنگ ہو جاتا ہے۔ اس چکر سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ادھار لینا بالکل بند کر دیں۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی احتیاط سے کریں کیونکہ پاکستان میں کریڈٹ کارڈ کا سود بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ ہر مہینے پوری رقم ادا نہیں کر سکتے تو کریڈٹ کارڈ استعمال نہ کریں۔ ادھار اور قرض کی عادت ترک کر کے آپ نہ صرف پیسے بچائیں گے بلکہ ذہنی سکون بھی پائیں گے۔
|
| سستی جگہ سے خریداری کریں |
خریداری کے دوران تھوڑی سی سمجھداری سے بہت زیادہ پیسے بچائے جا سکتے ہیں۔ سپر اسٹور کے بجائے مقامی منڈی یا ہول سیل مارکیٹ سے سامان خریدیں جہاں قیمتیں کافی کم ہوتی ہیں۔ مہینے بھر کا راشن ایک ساتھ خریدنا الگ الگ خریدنے سے سستا پڑتا ہے۔
شاپنگ سے پہلے ہمیشہ فہرست بنائیں اور صرف فہرست میں موجود چیزیں خریدیں۔ سیل اور ڈسکاؤنٹ کا فائدہ اٹھائیں لیکن صرف ان چیزوں پر جن کی ضرورت ہو۔ برانڈڈ اشیاء کے بجائے معیاری لیکن کم قیمت متبادل استعمال کریں۔ اس طرح آپ ہر مہینے کھانے پینے کے بجٹ میں بیس سے تیس فیصد بچت کر سکتے ہیں۔
|
| ٹرانسپورٹ خرچ کم کریں |
پاکستان کے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کا خرچ مہینے میں کافی بڑی رقم بن جاتا ہے۔ روزانہ رکشہ یا ٹیکسی استعمال کرنے کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ اگر ممکن ہو تو سائیکل یا موٹر سائیکل استعمال کریں جو پٹرول اور کرایے دونوں میں بچت کرواتی ہے۔
کارپولنگ بھی ایک اچھا آپشن ہے جس میں آفس کے ساتھی مل کر ایک گاڑی میں سفر کرتے ہیں اور خرچ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ آن لائن کام کرنے کی کوشش کریں تاکہ روزانہ دفتر آنے جانے کی ضرورت کم ہو۔ ٹرانسپورٹ کے خرچ میں تھوڑی سی ہوشیاری سے ہر مہینے تین سے پانچ ہزار روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
|
| الگ بچت اکاؤنٹ کھولیں |
بچت کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک الگ بچت اکاؤنٹ کھولیں جس میں سے عام خرچ کے لیے پیسے نہ نکالیں۔ پاکستان میں تمام بڑے بینک بچت اکاؤنٹ کی سہولت دیتے ہیں جس پر سود بھی ملتا ہے۔ میزان بینک، بینک اسلامی اور دیگر اسلامی بینکوں میں منافع پر مبنی اکاؤنٹ بھی کھولے جا سکتے ہیں۔
ہر مہینے تنخواہ ملتے ہی طے شدہ رقم اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں۔ اگر یہ ٹرانسفر خودکار یعنی آٹومیٹک کر دیں تو اور بھی بہتر ہے کیونکہ پھر بھولنے کا خطرہ نہیں رہتا۔ یاد رکھیں کہ یہ پیسے صرف بڑے اہداف جیسے گھر خریدنا، بچوں کی تعلیم یا ہنگامی صورتحال کے لیے رکھیں۔
|
| کمیٹی میں شامل ہوں |
کمیٹی پاکستان میں پیسے بچانے کا ایک بہت مقبول اور مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں کچھ لوگ مل کر ہر مہینے ایک طے شدہ رقم جمع کرتے ہیں اور باری باری ایک شخص کو پوری رقم مل جاتی ہے۔ یہ طریقہ ان لوگوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے جو خود سے پیسے نہیں بچا پاتے۔
کمیٹی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو ایک بڑی رقم یکمشت مل جاتی ہے جسے آپ کسی اہم کام میں لگا سکتے ہیں۔ کمیٹی ہمیشہ قابل اعتماد لوگوں کے ساتھ کریں اور رقم زیادہ بڑی نہ رکھیں تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو۔ آفس کے ساتھیوں، رشتہ داروں یا قریبی دوستوں کے ساتھ کمیٹی شروع کریں۔
|
| آمدنی کا اضافی ذریعہ بنائیں |
صرف خرچ کم کرنا کافی نہیں بلکہ آمدنی بڑھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر آپ کی تنخواہ کم ہے تو کوئی پارٹ ٹائم کام شروع کریں۔ فری لانسنگ، آن لائن ٹیچنگ، ری سیلنگ یا کوئی چھوٹا گھریلو کاروبار شروع کر کے اپنی آمدنی بڑھائی جا سکتی ہے۔
اضافی آمدنی کا پورا حصہ بچت میں ڈالیں اور اسے خرچ نہ کریں۔ اس طرح آپ کی بچت بہت تیزی سے بڑھے گی۔ پاکستان میں بہت سے لوگ شام کے اوقات میں پارٹ ٹائم کام کر کے اضافی دس سے بیس ہزار روپے ماہانہ کما لیتے ہیں جو پوری طرح بچت میں چلے جاتے ہیں۔
| طریقہ | ممکنہ ماہانہ بچت |
|---|---|
| پہلے بچائیں پھر خرچ کریں | 3,000 سے 10,000 روپے |
| ماہانہ بجٹ بنائیں | 2,000 سے 5,000 روپے |
| فضول خرچی بند کریں | 5,000 سے 10,000 روپے |
| بجلی گیس کا بل کم کریں | 1,000 سے 3,000 روپے |
| قرض سے بچیں | 2,000 سے 8,000 روپے |
| سمارٹ شاپنگ | 3,000 سے 7,000 روپے |
| ٹرانسپورٹ خرچ کم کریں | 3,000 سے 5,000 روپے |
| الگ بچت اکاؤنٹ | خودکار بچت |
| کمیٹی میں شامل ہوں | یکمشت بڑی رقم |
| اضافی آمدنی | 10,000 سے 20,000 روپے |
پیسے بچانے کی شروعات کے لیے کوئی بھی وقت موزوں نہیں بلکہ صرف آج کا وقت موزوں ہے۔ انتظار نہ کریں کہ تنخواہ بڑھے گی تب بچائیں گے کیونکہ یہ وقت شاید کبھی نہ آئے۔ آج سے ہی چھوٹی چھوٹی بچتیں شروع کریں اور آہستہ آہستہ رقم بڑھاتے جائیں۔
یاد رکھیں کہ مالی آزادی ایک رات میں نہیں آتی لیکن ہر روز کی چھوٹی بچت آپ کو ایک دن اس منزل تک ضرور پہنچائے گی۔ اوپر بیان کیے گئے صرف پانچ طریقوں پر بھی عمل کر لیں تو آپ ہر مہینے کم از کم دس سے پندرہ ہزار روپے بچا سکتے ہیں جو سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے بنتے ہیں۔
نیٹ ایشیا پر ہماری کوشش ہے کہ پاکستانی عوام کو عملی اور قابل استعمال مالی رہنمائی ملے تاکہ وہ اپنی محدود آمدنی میں بھی بہتر زندگی گزار سکیں۔ اگر آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں اور نیچے کمنٹ میں بتائیں کہ آپ پیسے بچانے کے لیے کون سا طریقہ اپنانا چاہتے ہیں۔