پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں۔ جوانی میں جب آمدنی ہوتی ہے تو لوگ سوچتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ ابھی بہت دور ہے اور بعد میں سوچیں گے۔ لیکن جب ریٹائرمنٹ کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش پہلے سے بچت کی ہوتی۔ پاکستان میں سرکاری ملازمین کو پنشن ملتی ہے لیکن نجی شعبے میں کام کرنے والوں اور کاروباری افراد کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد کی مالی سیکیورٹی کا ذمہ خود انہی کا ہوتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد آمدنی ختم یا بہت کم ہو جاتی ہے لیکن اخراجات نہیں رکتے۔ صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں، روزمرہ کی ضروریات جاری رہتی ہیں اور بچوں پر بوجھ ڈالنا خودداری کے خلاف ہے۔ اگر آپ نے پہلے سے اچھی منصوبہ بندی کی ہو تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ عزت اور آرام سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی جتنی جلدی شروع کی جائے اتنا بہتر ہے کیونکہ وقت سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پاکستان میں ریٹائرمنٹ کے لیے پیسے کیسے بچائیں، کتنی رقم کی ضرورت ہوگی اور کون سے طریقے سب سے مؤثر ہیں تاکہ آپ کی ریٹائرمنٹ خوشگوار اور مالی طور پر محفوظ ہو۔
|
| ریٹائرمنٹ کے لیے کتنی رقم چاہیے |
ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی شروع کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو کتنی رقم کی ضرورت ہوگی۔ اس کا انحصار آپ کی ریٹائرمنٹ کی عمر، متوقع زندگی اور ماہانہ اخراجات پر ہے۔ پاکستان میں ایک عام اندازے کے مطابق اگر آپ ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں اور پچہتر سال تک زندہ رہتے ہیں تو آپ کو پندرہ سال کے اخراجات کے لیے رقم کی ضرورت ہوگی۔
اگر آپ کا موجودہ ماہانہ خرچ پچاس ہزار روپے ہے اور مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے وقت یہ ایک لاکھ روپے ماہانہ ہو جائے تو آپ کو پندرہ سالوں میں ایک کروڑ اسی لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی۔ یہ بہت بڑی رقم لگتی ہے لیکن اگر آپ پچیس سال کی عمر سے بچت شروع کریں تو پینتیس سال میں آہستہ آہستہ یہ رقم جمع کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلدی شروع کرنا سب سے ضروری ہے۔
| شروع کرنے کی عمر | ماہانہ بچت ہدف | 60 سال تک کل رقم |
|---|---|---|
| 25 سال | 5,000 روپے | 35 لاکھ سے زیادہ |
| 30 سال | 8,000 روپے | 38 لاکھ سے زیادہ |
| 35 سال | 15,000 روپے | 45 لاکھ سے زیادہ |
| 40 سال | 25,000 روپے | 50 لاکھ سے زیادہ |
| 45 سال | 40,000 روپے | 48 لاکھ سے زیادہ |
|
| وی پی ایس — بہترین ریٹائرمنٹ پلان |
پاکستان میں ریٹائرمنٹ کے لیے سب سے بہترین اور سرکاری طور پر منظور شدہ پلان وی پی ایس یعنی ولنٹری پنشن اسکیم ہے۔ یہ اسکیم سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان یعنی ایس ای سی پی کی نگرانی میں مختلف پنشن فنڈز چلاتے ہیں۔ وی پی ایس میں آپ ہر مہینے ایک مقررہ رقم جمع کراتے ہیں اور یہ رقم پیشہ ور مینیجرز کے ذریعے مختلف جگہوں پر لگائی جاتی ہے جس سے وقت کے ساتھ یہ بڑھتی رہتی ہے۔
وی پی ایس کا سب سے بڑا فائدہ ٹیکس کی بچت ہے۔ وی پی ایس میں جمع کرائی گئی رقم آپ کی قابل ٹیکس آمدنی سے منہا ہو جاتی ہے جس سے آپ کا ٹیکس کم ہوتا ہے۔ وی پی ایس میں تین قسم کے پلان ہوتے ہیں یعنی ایکویٹی سب فنڈ زیادہ خطرہ زیادہ منافع، منی مارکیٹ سب فنڈ کم خطرہ معتدل منافع اور ڈیبٹ سب فنڈ کم خطرہ مستقل منافع۔ اپنی عمر اور خطرے کی برداشت کے مطابق پلان چنیں۔ جوانی میں زیادہ خطرہ لیا جا سکتا ہے اور بڑھاپے کے قریب محفوظ پلان میں منتقل ہوں۔
|
| پراپرٹی سے ریٹائرمنٹ آمدنی |
پاکستان میں ریٹائرمنٹ کے لیے پراپرٹی سرمایہ کاری بہت مقبول طریقہ ہے۔ اگر آپ نے ایک یا دو پراپرٹی خریدی ہوئی ہیں جو کرائے پر دی ہوئی ہیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد کرایے کی آمدنی ایک مستقل ماہانہ آمدنی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں ایک اچھی تجارتی پراپرٹی کا کرایہ پچاس ہزار سے پانچ لاکھ روپے ماہانہ تک ہو سکتا ہے جو ریٹائرمنٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرتے وقت ایسی جگہ لیں جو ہمیشہ مصروف رہے اور کرایہ دار آسانی سے ملیں۔ تجارتی پراپرٹی رہائشی پراپرٹی سے زیادہ کرایہ دیتی ہے۔ اگر آپ کے پاس ابھی پوری رقم نہیں تو ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لیں جو وقت کے ساتھ قیمت میں بڑھتا جائے گا اور ریٹائرمنٹ کے وقت اس پر گھر بنا کر یا بیچ کر بڑی رقم مل جائے گی۔ پراپرٹی سرمایہ کاری کے ساتھ دیگر ریٹائرمنٹ پلانز بھی رکھیں تاکہ مکمل مالی تحفظ ہو۔
|
| قومی بچت اسکیمیں |
پاکستان میں قومی بچت اسکیمیں ریٹائرمنٹ کے لیے بہترین اختیارات میں سے ایک ہیں کیونکہ انہیں حکومت کی ضمانت حاصل ہے اور منافع بھی اچھا ملتا ہے۔ بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ خاص طور پر ریٹائرڈ افراد کے لیے بنایا گیا ہے جس پر ماہانہ منافع ملتا ہے۔ اگر آپ نے ریٹائرمنٹ تک بیس لاکھ روپے جمع کیے ہوئے ہیں اور انہیں بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ میں لگا دیں تو ماہانہ تیس سے پینتیس ہزار روپے آمدنی ہو سکتی ہے بغیر اصل رقم کو چھوئے۔
ریگولر انکم سرٹیفکیٹ بھی ایک بہترین اختیار ہے جس میں پانچ سالہ مدت پر ماہانہ منافع ملتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت اپنی جمع رقم کو مختلف قومی بچت اسکیموں میں تقسیم کریں تاکہ آمدنی مستقل رہے اور خطرہ بھی کم ہو۔ ان اسکیموں میں رقم بالکل محفوظ ہے اور مہنگائی کے ساتھ منافع کی شرح بھی اکثر بڑھ جاتی ہے۔
|
| سونا — مہنگائی سے تحفظ |
پاکستان میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور روپے کی قدر وقت کے ساتھ کم ہوتی رہتی ہے۔ اگر آپ نے آج کروڑ روپے بچائے ہیں تو بیس سال بعد مہنگائی کی وجہ سے ان کی اصل قوت خرید بہت کم ہو جائے گی۔ سونا مہنگائی کے خلاف بہترین ڈھال ہے کیونکہ جب بھی روپیہ کمزور ہوتا ہے سونے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ بیس سالوں میں سونے کی قیمت پچاس گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
ریٹائرمنٹ کی بچت کا پندرہ سے بیس فیصد سونے میں رکھنا ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ سونا خریدتے وقت ہمیشہ معتبر جوہری سے خریدیں اور رسید لیں۔ سونے کو محفوظ جگہ رکھیں جیسے بینک لاکر میں۔ آج کل ڈیجیٹل گولڈ کا اختیار بھی موجود ہے جس میں بغیر فزیکل سونا رکھے ڈیجیٹل طریقے سے سونے میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری کو طویل مدتی نظر سے دیکھیں اور روزانہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی پرواہ نہ کریں۔
|
| ریٹائرمنٹ کے بعد چھوٹا کاروبار |
ریٹائرمنٹ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بالکل بیکار بیٹھ جائیں۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے تجربے اور ہنر سے چھوٹا کاروبار شروع کرتے ہیں جو انہیں فعال رکھتا ہے اور اضافی آمدنی بھی دیتا ہے۔ مشاورت یعنی کنسلٹنسی کا کاروبار ریٹائرڈ پیشہ وران کے لیے بہترین ہے کیونکہ انہیں اپنے شعبے میں برسوں کا تجربہ ہوتا ہے جو دوسروں کے بہت کام آتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیوشن دینا، آن لائن کام کرنا، چھوٹی نرسری یا باغبانی کا کاروبار کرنا یا کسی ہنر سے کمانا آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رکھتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ جو لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کچھ نہ کچھ کام کرتے ہیں وہ لمبی اور زیادہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کی مالی منصوبہ بندی میں یہ اضافی آمدنی بھی شامل کریں تاکہ صرف جمع رقم پر انحصار نہ ہو۔
|
| صحت کی بیمہ ضروری ہے |
ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی میں صحت کی بیمہ کا انتظام بہت ضروری ہے کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں علاج بہت مہنگا ہے اور ایک بڑی بیماری پوری جمع پونجی ختم کر سکتی ہے۔ اگر آپ ملازمت میں ہیں تو ابھی سے صحت کی بیمہ لیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسے جاری رکھیں۔ صحت کی بیمہ کا سالانہ پریمیم ریٹائرمنٹ کے بجٹ میں شامل کریں۔
پاکستان میں مختلف بیمہ کمپنیاں صحت کی بیمہ پیش کرتی ہیں جن میں ادا کردہ پریمیم کے مقابلے میں لاکھوں روپے کا کوریج ملتا ہے۔ فیملی ہیلتھ انشورنس میں پورے خاندان کو ایک ساتھ کور کیا جا سکتا ہے جو انفرادی بیمہ سے سستا پڑتا ہے۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے صحت کا مکمل چیک اپ کروائیں اور کسی بھی بیماری کا ابھی علاج کروائیں تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد صحت اچھی ہو۔ صحتمند طرز زندگی اپنائیں کیونکہ اچھی صحت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
|
| عمر کے مطابق منصوبہ بندی |
ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی ہر عمر میں مختلف ہوتی ہے۔ پچیس سے پینتیس سال کی عمر میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں کیونکہ اس عمر میں وقت سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ تھوڑی بھی رقم لگائیں لیکن شروع کریں۔ وی پی ایس، میوچل فنڈ اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ لگائیں جہاں طویل مدت میں زیادہ منافع ملتا ہے۔ پینتیس سے پینتالیس سال کی عمر میں سرمایہ کاری بڑھائیں اور پراپرٹی بھی خریدیں۔
پینتالیس سے پچپن سال کی عمر میں سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ اختیارات کی طرف منتقل کریں۔ اسٹاک مارکیٹ سے قومی بچت اسکیموں اور فکسڈ انکم کی طرف آئیں۔ ریٹائرمنٹ کا بجٹ بنائیں اور دیکھیں کہ آپ کی جمع رقم کتنی ہے اور ابھی کتنی کمی ہے۔ پچپن سے ساٹھ سال کی عمر میں قرض ادا کریں، اخراجات کم کریں اور زیادہ سے زیادہ بچت کریں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کی منصوبہ بندی کریں کہ وقت کیسے گزاریں گے۔
| عمر | ترجیح | بہترین سرمایہ کاری |
|---|---|---|
| 25 سے 35 سال | زیادہ خطرہ زیادہ منافع | وی پی ایس، میوچل فنڈ، اسٹاک |
| 35 سے 45 سال | متوازن سرمایہ کاری | پراپرٹی، سونا، وی پی ایس |
| 45 سے 55 سال | محفوظ اختیارات | قومی بچت، فکسڈ ڈپازٹ |
| 55 سے 60 سال | قرض ختم بچت زیادہ | قومی بچت اسکیمیں |
| 60 سال کے بعد | آمدنی پیدا کرنا | بہبود سرٹیفکیٹ، کرایہ |
|
| عام غلطیاں جن سے بچیں |
پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی میں سب سے بڑی غلطی دیر سے شروع کرنا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ پہلے بچوں کی شادی کر لیں پھر ریٹائرمنٹ کا سوچیں گے لیکن یہ سوچ غلط ہے۔ ریٹائرمنٹ کی بچت اور بچوں کی ذمہ داریاں دونوں ایک ساتھ کریں۔ دوسری بڑی غلطی صرف بچوں پر انحصار کرنا ہے کہ بڑھاپے میں بچے دیکھیں گے۔ یہ بچوں پر بوجھ ڈالنا ہے اور خودداری کے خلاف ہے۔
تیسری غلطی یہ ہے کہ لوگ مہنگائی کا حساب نہیں لگاتے اور آج کی قیمتوں کے حساب سے ریٹائرمنٹ فنڈ بناتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بیس سال بعد چیزیں آج سے پانچ سے دس گنا مہنگی ہو سکتی ہیں۔ چوتھی غلطی یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ فنڈ کو درمیان میں استعمال کر لیتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کی رقم کو لاک کر دیں تاکہ درمیان میں نکالنے کا خیال ہی نہ آئے۔
| ریٹائرمنٹ کا ذریعہ | فائدہ | کس کے لیے بہترین |
|---|---|---|
| وی پی ایس | ٹیکس بچت اور منافع | ملازمت پیشہ افراد |
| پراپرٹی کرایہ | مستقل ماہانہ آمدنی | پراپرٹی والے |
| قومی بچت اسکیم | محفوظ ماہانہ منافع | سب کے لیے |
| سونا | مہنگائی سے تحفظ | سب کے لیے |
| میوچل فنڈ | طویل مدت میں زیادہ منافع | جوان افراد |
| چھوٹا کاروبار | فعال رہیں اور کمائیں | ہنرمند افراد |
| صحت بیمہ | صحت اخراجات سے تحفظ | سب کے لیے لازمی |
ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کوئی آپشن نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ پاکستان میں جہاں سماجی سیکیورٹی نظام کمزور ہے وہاں ہر شخص کو اپنی ریٹائرمنٹ کی ذمہ داری خود لینی ہوگی۔ جتنی جلدی شروع کریں اتنا کم ماہانہ بچانا ہوگا اور اتنا بڑا فنڈ بنے گا۔ آج کی چھوٹی بچت کل کی بڑی آزادی ہے۔
ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی آپ کو نہ صرف مالی سیکیورٹی دیتی ہے بلکہ ذہنی سکون بھی دیتی ہے۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا مستقبل محفوظ ہے تو آپ آج زیادہ خوشی اور اعتماد سے زندگی گزارتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھاپے میں عزت اور خودداری سے زندگی گزارنا ہر شخص کا حق ہے اور اس کے لیے آج سے تیاری شروع کریں۔
نیٹ ایشیا پر ہم پاکستانی عوام کو مالی رہنمائی دیتے رہیں گے تاکہ وہ ایک بہتر اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔ اگر آپ کے ذہن میں ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی سے متعلق کوئی سوال ہے یا آپ اپنا تجربہ شیئر کرنا چاہتے ہیں تو نیچے کمنٹ میں ضرور لکھیں اور اس آرٹیکل کو اپنے ان دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کریں جو ابھی جوان ہیں تاکہ وہ ابھی سے اپنی ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی شروع کر سکیں۔